سندھ بلدیاتی انتخابات، حیدرآباد میں پی پی اور کراچی میں جماعت اسلامی سب سے آگے

غیر سرکاری تنائج کے مطابق حیدرآباد میں پاکستان پیپلز پارٹی اور کراچی میں جماعت اسلامی سب سے آگے تیسرے نمبر پر پاکستان تحریک انصاف نے نسشت اپنے نام کیے تفصلات کے مطابق گلشن اقبال اور نارتھ ناظم آباد ٹاؤن میں جماعت اسلامی آگے ہے۔ لیاری، بلدیہ اور ابراہیم حیدری ٹاؤن کی 10 نشتوں پر پیپلز پارٹی کو برتری حاصل ہے۔

ضلع ملیر کی 30 میں سے 3 یونین کمیٹیوں میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کامیاب ہوگئے۔ ضلع جنوبی میں 25 یوسیز میں سے 1 پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین و وائس چیئرمین کے امیدوار کامیاب ہوگئے۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پریزائیڈنگ افسران قانون کے مطابق فارم گیارہ اور بارہ دینے کے پابند ہیں، لیکن سندھ حکومت مداخلت کررہی ہے اور دس بج چکے ہیں مگر ہمیں فارم فراہم نہیں کیا جارہا، اگر آر اوز نے اگلے ایک گھنٹے میں فارم گیارہ بارہ نہ دیے اور نتیجے کا اعلان نہیں کیا تو شہر بھر میں دھرنے دینگے۔

کراچی کے مختلف علاقوں سعود آباد ، ملیر ، لانڈھی اور کورنگی میں اتوار کی صبح نامعلوم شرپسندوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے پولنگ کیمپس کو آگ لگا دی جس سے وہاں سامان میزیں ، کرسیاں اور قناتیں جل کر خاکستر ہوگئیں۔

حیدرآباد ڈویژن میں 410 اور ٹھٹھہ ڈویژن میں بھی 310 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں اور 27 امیدواروں کا انتقال ہو چکا ہے، جس کے بعد حیدرآباد ڈویژن کے اضلاع میں 1675 اور ٹھٹھہ ڈویژن کے اضلاع میں تمام کیٹگریز کی 709 نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں، مجموعی طور پر 17862 امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں جن میں سے 9057 امیدواروں کا تعلق کراچی، 6228 حیدرآباد اور 2577 کا تعلق ٹھٹھہ ڈویژن سے ہے۔

بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں بے یقینی کے باعث سیاسی جماعتیں مؤثر انتخابی مہم نہ چلاسکیں، روایتی انتخابی گہما گہمی نہ ہونے کے برابر رہی، عوام کے ساتھ امیدواروں کے لیے بھی الیکشن ہونے یا نہ ہونے کا موضوع مستقل زیر بحث رہا، خاص طور پر آخری تین دنوں میں بے یقینی کی فضا عروج پر رہی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *