دنیا کے اکثر ممالک میں ریاست اور حکومت جوپالیسیاں بناتے ہیں،مگر پاکستان میں معاملا ت اس کے برعکس ہے لشکری خان رئیسانی،

ریاست بلوچستان کو کالونی کی طرح چلا رہی ہے - لشکری رئیسانی | The  Balochistan Post

ڈھاڈر:بلو چستان کے معروف سیاسی وقبائلی شخصیت نوابزادہ لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک میں ریاست اور حکومت جوپالیسیاں بناتے ہیں ادارے ان پر عمل کرتے ہیں مگر پاکستان میں معاملا ت اس کے برعکس ہے یہاں حکومت اور پارلیمان کو مکمل اختیارہی نہیں ملتا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ڈھاڈر کے قدیم تاریخی گاؤں مہرگڑھ میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے حالات تب تک ٹھیک نہیں ہونگے جب عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ پالیسیاں ترتیب نہیں دے گی یہاں عوام کی رائے کے برعکس جعلی مینڈیٹ کے زر یعے جن لوگوں کومسلط کیا جاتا ہے وہ عوام کے بجائے کسی اور کو خوش کرنے کی پالیسی پر چلتے ہیں جس کی سزا غریب عوام کو ملتی ہے ملک مہنگائی اور اقتصادی طور پر بہت مشکل سے گزر رہا ہے ان حالات سے باہر نکلنے کے لیے ایک مضبوط معاشی اور اقتصادی ٹیم کا ہونا ضروری ہے حیرت کی بات ہے کہ بڑی سیاسی جماعتوں کے پاس اس طرح کی کوئی اچھی ٹیم موجود نہیں ہے بلکہ کہیں سے مانگے کا وزیر خزانہ لا کر ملک کو ایک نئے بحران میں دھکیل دیا جاتا ہے

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کچھی کی سرزمین اور یہاں کے عوام کے ساتھ ہمارا تاریخی اور بنیادی رشتہ ہے اور ہم ان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں گزشتہ طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث کچھی کے بیشتر علاقوں میں تباہی پھیلائی اور سینکڑوں خاندان درپدر ہوئے ان کے گھر سامان اور جمع پونجی مال مویشی سب پانی میں بہہ گئے اس کے باوجود جعلی نمائندے عوام کی مدد کے بہانے متاثرین کے لیے آ نے والی امداد کو ہڑپ کرکے عیاشیاں کرتے رہے جس کی وجہ سے بحالی کا عمل رک گیا ایسے نازک حالات میں ہمارا فرض تھا کہ متاثرین کی تکالیف میں کمی کے لیے بھرپور انداز میں کوششیں کرکے ہزاروں افراد کو راشن خیمے اور مالی امداد بھجوائی گئی تاہم ہمارے دورے کا اہم مقصد ضلع کچھی میں تباہ کن سیلاب کا شکار متاثرین کو ملنے والی امداد اور ان کی حالت کا جائزہ لینا بھی ہے

اس موڑ پر مصیبت میں مبتلا عوام کے ساتھ بلاامتیاز ہمدردی اور ان کی قسم کی مدد کرنا لازمی ہے اور ہم نے متاثرین کی مشکلات میں کمی کے لیے مختلف غیر سرکاری بین الاقوامی مخیر اداروں کو متحرک کیا ہے جو متاثرین کی بحالی کے لیے بھرپور تعاون کررہے ہیں اور انہیں خوراک رہائش اور نقد کی صورت میں مالی امداد کے منصوبوں پر تیزی سے عمل کررہے ہیں لیکن ہماری کوشش ہے کہ متاثرین کی مستقل زندگی کو دوبارہ اپنی اصل حالت میں بحالی کو ممکن بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور امید ہے کہ جلد ہی نئے منصوبوں پر کام شروع کیا جائے گا

انہوں نے ضلع کچھی میں امن و امان کی صورتحال پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کہ ضلع کچھی میں عوام کی جان دہشت گردوں اور راہزنوں کے ہاتھوں میں دی گئی ہے وہ جب چاہیں جہاں چاہیں عوام کی عزت نفس پر وار کریں انہوں نے خبردار کیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حالات کو سنجیدگی کے ساتھ لیں اور بدامنی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں چیف سیکرٹری بلوچستان اور سیکرٹری داخلہ سے بات کی جائے گی انہوں نے علاقے کے معتبرین سیاسی سماجی کاروباری قبائلی رہنماؤں کچھی بھر کے محنت کش کسان دہقانوں نوجوانوں اور طلباء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی مفاد کے ہزاروں کی تعداد میں جس محبت اور عقیدت کے ساتھ باہر نکل کر ان کا خیر مقدم کیا میرے لیے اعزاز ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عوام اب اپنا اختیار اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں آ ج عوام کا جم غفیر ان کے لیے ایک پیغام ہے کہ کچھی کے ترقی خوشحالی اور امن کے دشمن عوام کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتے انہوں نے کہا جلد ہی سیلاب متاثرین کیلئے مزید امدادی پیکج اور بحالی کے نئے منصوبوں کا آ غاز کیا جائے گا مشکل کی گھڑی میں عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *