موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمیں اور بھی مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا، خرم دستگیر

اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ واضح دلیل ہے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں، بارشیں ہوئیں توکچھ لوگوں نے بارشوں کے پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے مختلف آلات کا استعمال کرکے پانی کو روکنے کی کوشش کی، سیلابی پانی کو نکالنے کیلئے کوئی مثبت طریقہ نہیں تھا، جن علاقوں میں بارشیں ہوئیں وہ علاقے دریاؤں سے دور تھے، وسیع پیمانے پر پمپ کا استعمال کیا گیا جس کیلئے بجلی کی فراہمی کو اپنی نگرانی میں یقینی بنایا،اس بات کا خیال کیا گیا کہ بجلی کی والٹیج پمپس کے استعمال کے مطابق فراہم کی جا سکے تا کہ اضافی پانی کو بروقت نکالاجاسکے،یہ ایک مشکل چیلنج تھا، اگر ایسا سیلاب 2023ء میں آیا تو ہم اس کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوں، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمیں اور بھی مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔

جمعرات کے روز اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ کس طرح بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے، گزشتہ سال جس سیلاب کا سامنا پاکستان کو کرنا پڑا وہ منفرد تھا،نہ کہ اپنے سائز بلکہ اپنی نیچر میں بھی مختلف تھا،پہلے جو سیلاب پاکستان میں آئے وہ دریاؤں میں پانی کی مقدار میں اضافے کی بنا پر آئے، اس دفعہ جو سیلاب آیا وہ بارشوں کے باعث آیا، اس بات کی واضح دلیل ہے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں،2022ء میں موسم میں واضح تبدیلی دیکھی گئی جس کی وجہ سے بارشیں اور گرمی زیادہ ہوئی اور سردی بھی زیادہ ہورہی ہے،لیکن اس کا وقت کم ہے،2022میں مشکل یہ تھی کہ کچھ علاقے سندھ اور بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں بارشوں کی شرح 500سے 600فیصد زیادہ تھی

جب بارشیں ہوئیں تو کچھ لوگوں نے بارشوں کے پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے مختلف آلات کا استعمال کرکے پانی کو روکنے کی کوشش کی،جب پانی زیادہ مقدار میں جمع ہوا تو سیلابی پانی کو نکالنے کیلئے کوئی مثبت طریقہ نہیں تھا، جن علاقوں میں بارشیں ہوئیں وہ علاقے دریاؤں سے دور تھے،اسی وجہ سے قدرتی طور پر پانی نہیں نکالا جاسکتا تھا،اس کیلئے وسیع پیمانے پر پمپ کا استعمال کیا گیا جس کیلئے بجلی کی فراہمی کو اپنی نگرانی میں یقینی بنایا،اس بات کا خیال کیا گیا کہ بجلی کی والٹیج پمپس کے استعمال کے مطابق فراہم کی جا سکے تا کہ اضافی پانی کو بروقت نکالاجاسکے،2022ء میں ایک منفرد طرح کا سیلاب دیکھا گیا اس سے قبل جب سیلاب آتا تھا تو دریا بھر جاتے تھے، کچھ عرصے کے بعد پانی کی مقدار برابر ہوجاتی تھی

اس مرتبہ پانی کو نکالنے کیلئے مختلف آلات کا استعمال کیا گیا،جس کی وجہ سے کافی بڑے پیمانے پر ذخائر، پیسہ اور بجلی کا استعمال کیاگیا، یہ ایک مشکل چیلنج تھا، اس بات کی امید نہیں کہ اگر دوبارہ سیلاب 2023ء میں آیا تو ہم اس کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوں، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمیں اور بھی مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا،ہمیں جن علاقوں میں امید تھی کہ بارش زیادہ ہوگی مثلاًدریائے جہلم اور چناب ان علاقوں میں امید سے کم بارشیں ہوئیں اور جن علاقوں میں بارشوں کی امید کم تھی وہاں زیادہ ہوئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *