موجودہ سیاسی نظام میں مسائل کے حل کی صلاحیت نہیں، شاہد خاقان عباسی

شاہد خاقان نے ن لیگ کو خیرباد کہنے اور نئی سیاسی جماعت بنانے کی تردید کردی  - Pakistan - AAJ

کو ئٹہ:سابق وزیر اعظم اور رہنما مسلم لیگ (ن) شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آج کی سیاست انتقام اور دشمنی کی سیاست بن گئی ہے، موجودہ سیاسی نظام میں مسائل کے حل کی صلاحیت نہیں ہے۔کوئٹہ میں لشکری رئیسانی، مصطفیٰ نواز کھوکھر، مفتاح اسمٰعیل و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’تصور نو پاکستان‘ کے عنوان سے قومی مذاکرے میں ہم نے ملک کو درپیش سیاسی و معاشی مسائل اور ان کے حل کے لیے بات چیت کی، ہم نے یہی بات کی کہ موجودہ سیاسی نظام میں ان مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج کی سیاست انتقام اور دشمنی کی سیاست بن گئی ہے، عوام کے مسائل ایک طرف رہ گئے، سیاست ایک دوسرے کو گالی دینے کا نام بن چکا ہے، یہ سیاست پاکستان کے مسائل حل نہیں کر سکتی۔ان کا کہنا تھا کہ ضرروی ہے کہ ایسا کوئی غیر جماعتی فورم ہو جہاں پاکستان کے مسائل کے حل کی بات کی جاسکے، اس لیے لشکری رئیسانی کی دعوت پر ابتدا بلوچستان میں کوئٹہ سے ہوئی، ہماری کوشش ہے کہ دیگر صوبوں اور فورمز پر جاکر عوام کے مسائل کا حل رکھا جائے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان کے پاس کسی مسئلے کا معجزاتی حل نہیں ہے، ہمیں ہر معاملے پر محنت کرنی ہوگی اور مشکل فیصلے کرکے ملک کو استحکام دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، اگر بلوچستان کو مسائل درپیش ہیں تو اس کے ذمہ دار بلوچستان کے وہ غیر نمائندہ لوگ ہیں جو اسمبلیوں میں بھیجے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں الزام تراشی کے لیے نہیں بیٹھے، ذمہ دار ٹھہرانا ہے تو ’ٹروتھ کمیشن‘ بنا دیں، اس ملک کے حقائق بہت تلخ ہیں اور حقائق وہ نہیں ہیں جو اخبارات میں چھپتے ہیں یا ٹی وی پر آتے ہیں۔رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے 4 برس یا 10، 20 برس تک کی جو بنیادی خرابیاں ہیں ان کے اثرات 8 ماہ میں دور نہیں ہو سکتے، ہوسکتا ہے 8 سال میں بھی دور نہ کر سکیں لیکن استحکام کی ابتدا ہونی چاہیے، حکومت یہی کوشش کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نواز شریف کے وطن واپس آنے کی باتیں کرتے ہیں لیکن ان کے ساتھ جو ناانصافیاں ہوئی ہیں ان کا بھی ازالہ ہونا چاہیے اور وہ ناانصافیاں بہت واضح ہیں، عدلیہ بھی ان فیصلوں کو دیکھے جس کے اثرات پاکستان پر ہوئے اور بے پناہ ہوئے، عدلیہ کے فیصلوں اور عمل کا بڑا حصہ ان معاملات میں ہے جن کا آج پاکستان شکار ہے۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمعٰیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لشکری رئیسانی کی جانب سے میزبانی کا شکریہ، یہ ’تصور نو پاکستان‘ کے عنوان سے قومی مذاکرے کا پہلا سیمینار تھا، اس کی اگلی قسط پشاور میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو مشکل معاشی حالات درپیش ہیں، عوام کو مسائل کا سامنا ہے، پاکستان کو رواں برس بیرون ملک اور اداروں کے 21 ارب ڈالر واپس کرنے ہیں، ہمیں ایک فریق سے قرض لے کر دوسرے کو ادا کرنا پڑتا ہے۔مفتاح اسمعٰیل نے کہا کہ پاکستانیوں کے اوپر 51 ہزار ارب روپے قرضہ ہوگیا ہے، بیرونی قرضہ بھی 25 ہزار ارب روپے ہوگیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *